Nawaiwaqt Survey Report For By-Election in NA-122, NA-125 and NA-154

Nawaiwaqt Survey Report For By-Election in NA-122, NA-125 and NA-154

Lahore/Lodhran (Wednesday, September 2, 2015) – Today Daily Urdu Newspaper “Nawaiwaqt Lahore” has published an crucial survey report about the by poll being held in Punjab in National and Punjab Assembly constituencies. These By election are being held on Following Halqas on sat, October 11, 2015.- All eyes on the results of these elections. PTI has already started its election campaign.

NA-122 Lahore

PP-147 Lahore

NA-154 Lodhran

According to survey conducted by this reliable newspaper, Pakistan Muslim League Nawaz (PML-N) enjoy support of almost 60% voters of these areas. While Pakistan Tehreek e Insaf (PTI) has support of 30% voters. remaining 10 percent voter are loyal of other political parties.

Candidates of PMLN, PTI in Lodhran and Lahore By Election 2015
Candidates of PMLN, PTI in Lodhran and Lahore By Election 2015

Detail Survey Report is given bellow:-

انتخابی ٹربیونلز کی جانب سے قومی اسمبلی کے سابق سپیکر سردار ایاز صادق، وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق اور آزاد حیثیت میں جیت کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے محمد صدیق بلوچ کے حلقوں میں دوبارہ انتخابات کروانے کے فیصلوں سے ملکی سیاست میں ایک مرتبہ پھر گرما گرمی عروج پر ہے۔ یہ تینوں حلقے اُن چار حلقوں میں سے ہیں جنہیں کھولنے کا عمران خان مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ این اے 122 لاہور میں سپیکر سردار ایاز صادق اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، این اے 125 لاہور میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں تحریک انصاف کے حامد خان اور این اے 154 لودھراں میں محمد صدیق بلوچ کے مقابلے میں تحریک انصاف کے جہانگیر ترین تھے۔ چوتھے حلقہ این اے 110 سیالکوٹ سے وزیر دفاع و پانی و بجلی خواجہ محمد آصف کامیاب ہوئے تھے۔ اُن کے مدمقابل تحریک انصاف کے عثمان ڈار تھے۔ ایک اور حلقہ این اے 118 لاہور کا انتخابی ٹربیونل سے فیصلہ آنے کو ہے یہاں سے مسلم لیگ (ن) کے ملک محمد ریاض اور تحریک انصاف کے حامد زمان میں مقابلہ ہوا تھا۔ موجودہ حالات میں جب ان حلقوں میں نئے انتخابات کروائے جانے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔ نوائے وقت نے قومی اسمبلی کے ان حلقوں کا علیحدہ علیحدہ ڈور ٹو ڈور جاکر سروے کیا اور اس بات کا جائزہ لیا کہ انتخاب کی صورت میں ان میں سے ہر حلقے میں کون کون امیدوار ہوگا اور کس امیدوار کے جیتنے کے روشن امکانات ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 میں مسلم لیگ (ن) نے ایک مرتبہ پھر اپنا امیدوار سردار ایاز صادق کو بنایا ہے جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی جگہ عبدالعلیم خان کو میدان میں اتارا ہے۔ این اے 122 دو ذیلی صوبائی حلقوں پی پی 147 اور پی پی 148 پر مشتمل ہے جن میں بارہ بارہ یونین کونسلیں شامل ہیں۔ صوبائی حلقہ پی پی 147 میں بھی دوبارہ الیکشن ہو رہا ہے تاہم اس حلقہ انتخاب میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف الیکشن 2013ء والے اپنے امیدواروں محسن لطیف اور شعیب صدیقی ہی کو آمنے سامنے لائی ہیں۔ این اے 122 میں کامیابی کا ہماکس کے سر بیٹھے گا۔ عوامی رائے جاننے کیلئے نوائے وقت نے ڈور ٹو ڈور سروے کیا جس میں اُن سے پوچھا گیا کہ آپ اپنا ووٹ کس امیدوار کو دیں گے۔ ہمیں یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ سو فیصد لوگ اس بات سے باخبر تھے کہ اُن کے حلقے میں دوبارہ الیکشن ہو رہا ہے۔ اچھرہ کے رشید پارک احاطہ مول چند میں ہم نے جو پہلا دروازہ کھٹکٹھایا اس سے ایک نوجوان برآمد ہوا جس نے اپنا نام اعجاز بتایا اس کا کہنا تھا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن ہی نہیں اُن کا ملازم بھی ہے اور اس کے دو بھائی علی رشید پی ٹی آئی کی طرف سے اس یونین کونسل 94 کے چیئرمین کا اور دوسرا بھائی میاں عادل رشید جنرل کونسلر کا امیدوار ہے۔ اس نے ہمیں باقی دروازوں پر دستک دینے سے منع کیا اور کہا کہ یہاں کی ساری آبادی تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔ اُن کے برابر والے گھر پر دستک دی۔ خاتون نکلی جس نے بتایا کہ گھر پر کوئی مرد نہیں۔ ہم نے اپنا سوال اُن کے سامنے رکھا انہوں نے جواب دیا کہ آپ جسے کہیں گے ووٹ دے دوں گی ۔ اگلے گھر سے نکلنے والے پچاس پچپن سالہ محمد ساجد تھے۔ انہوں نے کہا کہ سردار ایاز صادق کے مقابلے میں جو مرضی آئے میں مسلم لیگ (ن) کا حامی ہوں۔ ایاز صادق ہی کو ووٹ دوں گا۔ حاجی گل نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ تمام بے ضابطگیوں کے باوجود ایاز صادق شریف آدمی ہیں، ووٹ اُن کو ہی دوں گا۔ حاجی محمد نذیر کا کہنا تھا کہ وہ پچاس سال سے اسی علاقے میں رہتے ہیں یہاں جو نوٹ لگائے گا وہ جیت جائے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان یہاں سے علیم خان کو کھڑا کردیں تو وہ جیت جائے گا۔ ہماری اگلی منزل شاہ جمال تھی۔ وہاں پانچ گھروں کے مکینوں میں سے تین مسلم لیگ (ن) اور دو تحریک انصاف کے حق میں تھے۔ حبیب اللہ روڈ، گڑھی شاہو، ریلوے لاریکس کالونی، مدنی روڈ، دھرم پورہ، رسول پارک، سمن آباد، نیا مزنگ کے پانچ پانچ گھروں کے مکینوں سے کیے گئے سروے کے مطابق 60فیصد لوگوں نے مسلم لیگ (ن) اور 30 فیصد لوگوں نے پاکستان تحریک انصاف کیلئے پسندیدگی کا اظہار کیا۔ 10 فیصد افراد نے دیگر سیاسی جماعتوں سے وابستگی ظاہر کی یا انتخابی عمل سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ تحریک انصاف کیلئے پسندیدگی کا اظہار کرنے والوں میں زیادہ تر نوجوان تھے جبکہ پینتالیس پچاس یا اس سے زائد عمر کے لوگوں کی اکثریت نے وزیراعظم نواز شریف کی اقتصادی راہداری اور توانائی کے منصوبوں کیلئے کوششوں کو سراہا جبکہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی خدمت کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ لوگوں کی اکثریت نے امیدواروں سے بالاتر ہوکر نواز شریف اور عمران خان کو ووٹ دینے کی بات کی یا شیر اور بلا کو ووٹ دینے کی اصطلاح استعمال کی۔این اے 154 لودھراں میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے امیدواروں کے تعین کیلئے جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت مضبوط امیدوار میدان میں اتارنے کیلئے صلاح مشورے کر رہی ہے۔ سابق وزیر خارجہ صدیق خاں کانجو مرحوم کے صاحبزادے عبدالرحمٰن کانجو کی لاہور طلبی اس سلسلے کی کڑی ہے۔ دوسری جانب نااہل ہونے والے ایم این اے صدیق خان بلوچ 2013 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر اور علاقے میں سیاسی حریف پیر رفیع الدین شاہ کو منانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ ایک اور پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے امیدواروں میں صدیق خان بلوچ کے دوسرے صاحبزادے عمیر بلوچ کا نام بھی شامل ہو گیا ہے اور کہا جا رہا ہے صدیق خان بلوچ اپنے ایم پی اے صاحبزادے زبیر بلوچ کی بجائے آسٹریلیا سے تعلیم یافتہ عمیر بلوچ کو ضمنی الیکشن لڑانے کے خواہشمند ہیں۔ اس ساری صورتحال میں نوائے وقت نے این اے 154 میں امیدوار کون ہو سکتے ہیں اور ضمنی الیکشن کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں کے سوالات پر مبنی سروے کیا۔ حلقہ کے دو علاقوں جلہ ارائیں اور گیلے وال کے پندرہ افراد حاجی عباس ارائیں ‘ الطاف حسین وٹو‘ میاں کریم نواز ‘ میاں الیاس ارائیں‘ حاجی نصیر احمد‘ چودھری خالد حبیب گجر‘ چودھری مقصود حسین‘ چودھری خلیل‘ اشفاق تھہیم ‘ حاجی عمر فاروق‘ ملک امتیاز اور ملک قاسم لودھراں میں سے دس افراد کا کہنا تھا کہ صدیق بلوچ کے کسی صاحبزادے کو ٹکٹ ملنا چاہئے کیونکہ وہ ہی الیکشن میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ پانچ افراد کا کہنا تھا کہ ٹکٹ کا حق پیر رفیع الدین شاہ کا ہے۔ انہوں نے 2013 ء میں بھی 45 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے۔ صدیق خاں بلوچ پوری ایمانداری اور محنت سے ان کی انتخابی مہم چلائیں تو کامیابی یقینی ہے۔ این اے 154 کے بڑے حصے لودھراں شہر کے 20 افراد سے یہی سوال کئے گئے ان بیس افراد میں 13 وکلاء ایک سابق تحصیل ناظم ایک ناظم دو تاجر رہنما ایک کاشتکار‘ ایک صحافی اور ایک مسلم لیگی کارکن شامل تھا۔ دو وکلاء طفیل ٹھاکر اور ظفر وریا کا خیال تھا کہ ٹکٹ پیر رفیع الدین شاہ کو دیا جانا چاہئے۔ گیارہ وکلاء سردار کامران‘ رانا دیوان ‘نوید ڈوگر‘ راؤ گلزار‘ طاہر بھٹی‘ راؤ اقبال‘ چودھری نصیب گجر‘راؤ حسن‘ راؤ انتظار‘ راؤ عمران قیصر اور طاہر بھٹی کا کہنا تھا کہ صدیق بلوچ اپنی نااہلی کو چیلنج کر کے خود الیکشن لڑیں بصورت دیگر کسی صاحبزادے کو الیکشن لڑوائیں۔ شیخ افتخار الدین‘ راؤ احسان الحق‘ ملک اصغر ارائیں اور مقصود احمد بٹ کا مؤقف بھی یہی تھا۔ تاہم جاوید چودھری کا خیال تھا کہ ٹکٹ پیر رفیع الدین شاہ کو ملنا چاہئے۔ ان افراد میں سے بیشتر کو یقین تھا کہ مسلم لیگ ن ضمنی الیکشن میں واضح کامیابی حاصل کرے گی۔ دو کا کہنا تھا کہ مقابلہ ہو گا۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ نااہلی کے فیصلے سے عوام کی ہمدردیاں صدیق بلوچ کے ساتھ بڑھ گئی ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے نظر آئے کہ جہانگیر ترین دھرنوں اور پارٹی کی مرکزی سیاست میں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں حلقہ یاد ہی نہیں رہا۔ وہ طویل عرصے سے حلقہ سے غائب ہیں۔ اب جبکہ الیکشن شیڈول کا اعلان ہو گیا ہے توقع کی جا رہی ہے کہ جوڑ توڑ کی سیاست آئندہ چند روز کے دوران واضع شکل اختیار کرے گی۔ ضلع لودھراں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں شامل ہے لہٰذا ماہ ستمبر کے دوران بھرپور سیاسی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 118 میں ذیلی صوبائی حلقے پی پی 137 اور پی پی 138 شامل ہیں۔ اس حلقے میں شامل بستیاں دریائے راوی کے آر پار ہیں۔ دریا کے پار پی پی 137 میں محلہ کمبوہ، جیا موسیٰ، مسلم کالونی، محلہ قریشیاں، چٹھہ پارک، بوٹا پارک، لاجپت روڈ، یوسف پارک، حاجی کوٹ، نین سکھ، جاوید پارک اور پی پی 138 میں شاہدرہ ٹائون کے علاوہ پل کے پار آبادیاں، شاد باغ، عامر روڈ، شمس پورہ، قلعہ لچھمن سنگھ، ٹمبر مارکیٹ، حنیف پارک وغیرہ شامل ہیں۔ ان آبادیوں میں ارائیں، کشمیری، گجر، مغل، راجپوت، ککے زئی و دیگر برادران آبادیاں آباد ہیں۔ نوائے وقت کو اس حلقہ میں ڈور ٹو ڈور سروے کے دوران یہ جان کر حیرت ہوئی کہ جہاں اس حلقہ میں برادری ازم موجود ہے وہاں لوگوں کی سیاسی وابستگیوں کا بھی کوئی ثانی نہیں۔ اس حلقہ انتخاب میں محمد ریاض ملک، رکن قومی اسمبلی ہیں جن کا تعلق مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے وہ رکن پنجاب اسمبلی رہ چکے ہیں اور اب مسلسل دوسری مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے الیکشن 2013ء میں 1 لاکھ 3 ہزار 346 ووٹ لیے تھے ان کے قریبی حریف پاکستان تحریک انصاف کے حامد زمان کو 43 ہزار 616 ووٹ ملے تاہم حامد زمان نے عذر داری داخل کرائی کہ ان کے حریف نے نہ صرف دھاندلی کی ہے بلکہ ان کی ڈگری بھی جعلی ہے۔ اگرچہ ابھی معاملہ عدالتوں میں ہے تاہم انتخابی ٹربیونلز کے حالیہ پے در پے فیصلوں کے بعد گمان ہے کہ اس حلقے کا فیصلہ بھی جلد آ جائے گا۔ نوائے وقت نے اس مفروضے کی بنیاد پر کہ اگر فیصلہ ملک ریاض ایم این اے کے خلاف آتا ہے تو پھر اس حلقہ انتخاب کی صورت حال کیا ہو گی۔ مسلم لیگ (ن) یہاں سے کس کو اپنا نیا امیدوار بنائے گی اور نئے الیکشن کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ این اے 118 میں شامل لگ بھگ ہر بستی کے پانچ پانچ گھروں سے یہ سوال پوچھا گیا کہ نیا الیکشن ہونے کی صورت میں آپ تحریک انصاف کے حامد زمان کو ووٹ دیں گے یا مسلم لیگ ن کے نئے امیدوار کو ووٹ ڈالیں گے اس سے پہلے کہ ہم ووٹروں کے جواب کی طرف آئیں اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کا ممکنہ امیدوار کون ہو سکتا ہے؟ ملک ریاض کے بھائی محمد ابرار ملک ان کے حلقے کے دفتر کو سنبھالتے ہیں، حلقے کے عوام کے مسائل حل کرنے میں اپنے بڑے بھائی کے فعال معاون ہیں اور پارٹی کے متحرک کارکن بھی ہیں۔ ملک ریاض کی کوشش ہو گی کہ ان کے بھائی ملک ابرار کو ان کی جگہ ٹکٹ ملے۔ٹکٹ کے حصول کیلئے ان کا میچ دو افراد سے پڑے گا جو کہ پی پی 137 سے ممبران پنجاب اسمبلی رہ چکے ہیں۔ ان میں ایک رانا محمد اقبال خان ہیں جو کہ 2008ء میں مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے سمیع اللہ خان کو شکست دی تھی جو کہ 2002ء میں اس صوبائی حلقہ سے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر رانا محمد اقبال خان کو شکست دے کر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ سمیع اللہ خان مسلم لیگ ن میں شامل ہو چکے ہیں اور آج کل وزیراعلیٰ پنجاب کے اسسٹنٹ پولیٹکل سیکرٹری ہیں وہ مسلم لیگ ن کی ٹیم میں فعال ممبر کی حیثیت سے شامل ہیں۔ ان کی اہلیہ عظمیٰ بخاری خواتین کی مخصوص نشستوں پر رکن پنجاب اسمبلی ہیں۔ پی پی 137 کے موجودہ رکن پنجاب اسمبلی مسلم لیگ ن لاہور کے جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر ہیں۔ پنجاب کے پارلیمانی سیکرٹری صحت بھی ہیں اور جعلی ادویات کے خاتمے کے لیے قائم ٹاسک فورس کے سربراہ بھی ہیں۔ پی پی 138 سے بھی مسلم لیگ ن کے فعال کارکن غزالی سلیم بٹ پنجاب اسمبلی کے ممبر ہیں۔ جنہوں نے مشرف آمریت کے دور میں نیک نام کمایا۔ ٹکٹ کی الاٹ منٹ کے مسئلے میں ان دونوں حضرات کی رائے بھی اہمیت کی حامل ہو گی۔ تحریک انصاف کے حامی ووٹروں نے پرجوش انداز میں کہا کہ نیا الیکشن ہونے کی صورت میں عمران خان کے بھائی حامد زمان ہی کامیاب ہوں گے۔ حامد زمان عمران کے قریبی عزیز ہیں۔ ہمارے سروے کے مطابق لوگوں کی اکثریت نے رائے دی کہ نواز شریف کے فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے کوششیں، لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے توانائی کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ان کے امیدواورں ہی کو ضمنی الیکشن میں کامیاب کروایا جائے۔ میاں شہباز شریف کی حکومتی کارکردگی کو بھی لوگوں نے بہت سراہا جبکہ تحریک انصاف کے حامیوں نے آئندہ حامد زمان کی کامیابی کو تبدیلی کی تحریک کے لیے ضروری قرار دیا۔ اس حلقہ انتخاب میں اگرچہ کانٹے دار مقابلہ ہوگا لیکن فاتح مسلم لیگ (ن) کا امیدوار ہی ہوگا۔حلقہ این اے 125کا شمار اُن انتخابی حلقوں میں ہوتا ہے جو پوش علاقوں، سفید پوش علاقوں اور دیہی آبادیوں کا حسین امتزاج ہیں۔ اس حلقہ میں ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے مختلف فیز اور ان کے عسکری ولاز، کینٹ کی آبادی اور نثار کالونی جیسی پوش آبادیاں، مدینہ کالونی، مین کینٹ کی آبادی سمیت صدر بازار اور ملحقہ آبادیوں سمیت مدینہ کالونی، نشاط کالونی، پیر کالونی، فاروق کالونی، النور ٹائون، پنجاب ہائوسنگ سوسائٹی جیسی سفید پوش آبادیاں اور کیرکوٹ و خور، چراڑ، مانانوالہ پنڈ، کوڑے پنڈ، امرسدھو پنڈ، ملک پور، ڈیڑھ پنڈی جیسے دیہی علاقے شامل ہیں۔ الیکشن 2013ء میں یہاں سے مسلم لیگ (ن) کے خواجہ سعد رفیق 1لاکھ 23ہزار 416ووٹ اور تحریک انصاف کے حامد خان نے 84ہزار 495ووٹ لئے تھے۔ اس حلقے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ پوش علاقوں میں تحریک انصاف اور ان کے امیدوار حامد خان کو اکثریت حاصل ہے جبکہ سفید پوش آبادیوں اور دیہی آبادی میں مسلم لیگ (ن) اور اس کے امیدوار خواجہ سعد رفیق کو اکثریت حاصل ہے۔ نوائے وقت کے سروے میں پوش علاقوں میں گھر گھر سے معلومات حاصل کرنے میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سروے کے مطابق ان تمام ہی آبادیوں میں سیاسی شعور اپنے عروج پر دکھائی دیا۔ دونوں ہی صاحبان کے پُرجوش حامیوں میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ تھی البتہ خواجہ سعد رفیق کے حامیوں میں درمیانی عمر حتیٰ کہ بڑی عمر کے لوگوں نے بھی اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے عدالتوں میں سر کھپانے کی بجائے عوام کی عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تینوں قسم کی آبادی کے لوگوں میں این اے 125میں بھی نئے انتخابات کا انتظار ہے۔ نوازشریف، اُن کی مسلم لیگ (ن) اور خواجہ سعد رفیق کے حامیوں کا کہنا تھا کہ ہم ثابت کر دیں گے کہ پہلے بھی ہم جیتے تھے۔ جبکہ تحریک انصاف کے حامیوں نے قرار دیا کہ ووٹ حامد خان، بلے اور عمران خان کو پڑے لیکن ریٹرننگ افسروں نے نتائج بدل دئیے اب ہم ثابت کر دیں گے کہ اکثریت ہماری ہے۔ تحریک انصاف کے حامی تصور حسین نے کہا کہ تحریک انصاف موجودہ فرسودہ اور گلے سڑے نظام میں تبدیلی کی خواہاں ہے۔ اسے موقع ملنا چاہئے۔ بلال حسین نے کہاکہ پی ٹی آئی کو سپورٹ کریں گے کیونکہ (ن) لیگ نے کاروباری حضرات کو بہت تنگ کر رکھا ہے اب تبدیلی آ جانی چاہئے۔ مسلم لیگ (ن) کے حامیوں نے پاک چین راہداری اور توانائی کے منصوبوں کا کام شروع ہونے پر جوش و خروش کا مظاہرہ کیا حتیٰ کہ مسلم لیگ (ن) کے بہت سے حامیوں نے کہاکہ خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کو جتنا بھی بہتر بنا دیا ہو اپنے حلقے کے لوگوں کو خوش نہیں رکھ پا رہے لیکن ہم نوازشریف کے ووٹر ہیں اور آئندہ بھی ووٹ خواجہ سعد رفیق ہی کو دیں گے۔ سروے کے نتیجے میں ہم نے نتیجہ اخذ کیا کہ نیا انتخاب ہونے کی صورت میں بھی خواجہ سعد رفیق ہی دوبارہ اکثریت حاصل کر لیں گے۔ وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ شہبازشریف کی انتھک محنت کو بھی لوگوں نے سراہا۔ تحریک انصاف کے حامی بھی پُرجوش دکھائی دئیے اب یہاں نیا انتخاب ہونے کی صورت میں دیکھنا ہو گا کہ ان کا جوش مختلف نتیجہ سامنے لا پاتا ہے کہ نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *